زلزلہ انگیزی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہلچل مچانا۔ "عبارت کی طراری اور زلزلہ انگیزی اپنے مصنف کی شخصیت کی آئینہ دار ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن، ٣١٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'زلزلہ' کے ساتھ فارسی مصدر 'انگیختن' سے صیغہ امر 'انگیز' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'زلزلہ انگیزی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٦ء کو "نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہلچل مچانا۔ "عبارت کی طراری اور زلزلہ انگیزی اپنے مصنف کی شخصیت کی آئینہ دار ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن، ٣١٢ )

جنس: مؤنث